ایسے بکھرے ہیں کہ ہر گز نہ سنور پائیں گے

 ایسے بکھرے ہیں کہ ہر گز نہ سنور پائیں گے

اُنکی محفل میں جو جائیں گے، تڑپ جائیں گے


 ہم نے مانا کہ وہ تعلق تھا بہت خاص، مگر

ملیں گے تو یہ داستان بھی ضرور سنائیں گے


غضب جھوٹ کہتی تھی وہ پیاری لڑکی بھی

کانچ کا گھر ہے جسکا ، ” مٹی کا گھر بنائیں گے“


سوچا نہ اس نے بھی تیر چھوڑنے سے پہلے

یہ زخم تو میرے ہوں گے، مگر اسے رلائیں گے 


وہ خط چوم کر الماری میں چھپا دیتی تھی

لوگوں کے جو ہاتھ لگے تو بے پرکی ارائیں گے


اس کے شہر میں اپنا بھی اِک بنجر ٹھکانہ ہے

جو دنیا سے تھک جائیں گے، تو اسے بسائیں گے

Comments