میرا کیا ہے،میں تو کچھ بھی مانگتا ہوں.
مولا کبھی سوچتا ہوں، مانگنے کا بھی کوئی ادب ہوتا ہے؟
کیا تجھ سے مانگتے ہوئے بھی انسان کو تولنا پڑتا ہے الفاظ کو؟
کیا کبھی کوئی دعا حد سے زیادہ ہو سکتی ہے؟
میں تو سب مانگ بیٹھتا ہوں
کبھی سکون،
کبھی وہ خواب جو میرے نصیب میں شاید لکھے ہی نہیں،
کبھی وہ سب جن كا میرا ہو جانا صرف ایک خام خیالی ہے.
مانگنے میں شرم کیسی؟
دل تو تیرا ہی دیا ہے،
خواہشیں بھی تیری بنائی ہوئی ہیں...
تو ہی بتا، اگر تو نے خواہش دی ہے
تو میں ماگنے کا حق تو رکھتا ہوں نا؟
کبھی سوچتا ہوں،
کہ اگر تُو مجھے میری ہر دعا عطا کر دیتا
تو شاید میں خود سے محروم ہو جاتا.
شاید میں وہ نہ بنتا، جو آج ہوں
ٹوٹا ہوا ہوں لیکن تیرا ہوں
سچ کہوں؟
میں کچھ نہیں جانتا.
نہ اچھا، نہ بُرا، نہ حق، نہ نقصان…
بس اتنا جانتا ہوں کہ تُو جانتا ہے.
میں کچھ نہیں مانگ رہا
نہ نام لے رہا ہوں، نہ خواہش کا اظہار کر رہا ہوں.
بس دل کے اندر ایک ہلکی سی درخواست ہے…
بےآواز، بےنام… تیرے سپرد.
مناسب جو لگے، وہ دینا مولا…
میرا کیا ہے… میں تو کچھ بھی مانگتا ہوں.
Comments
Post a Comment