کیا تم واقعی کہیں نہیں ہو؟؟؟

 “اٹھو نا ، چلو چاند دیکھنے چلیں ، وقت نکل جائے گا“ میں نے روہانسی آواز میں کہا


یہ میری آخری کوشش تھی اور مجھے یقین تھا کہ اس بار تو وہ مان ہی جائے گا. 


پہلی رات کا چاند جو کبھی میں نہ دیکھ پاؤں تو سارا مہینہ اسی غم اور اگلے ماہ کی پہلی رات کے چاند کے انتظار میں گزر جاتا تھا اور اس سے بڑھ کر دُکھ تو اُن دونوں کا ہوتا جب چاند اکیلے دیکھنا پڑ جائے.


دکھ صرف چاند کا نہیں رہتا پھر وہ بھی دو حصّوں میں بٹ جاتا ہے- چاند اور دل دونوں


اور سلطان


وہی تھا جو میرے ساتھ چلنے کو تیار ہو جاتا تھا چاہے تھوڑی دیر کی ضد، منتوں اور  شاعرانہ احتجاج کے بعد


کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اسے بھی چاند دیکھنا پسند ہے 

مگر اسکا چاند وہاں آسمان میں نہیں ہے 

ایسا وہ کہتا ہے اور میں کبھی نہ سمجھ سکی کہ وہ کس چاند کی بات کرتا ہے

کیونکہ اس کی یہ کتابی باتیں میری تو سمجھ سے باہر ہیں



تم چل رہے ہو؟؟؟ میں نے پھر سے کہا تو وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھا

ہم ہلکے قدموں سے آہنی دروازے سے ہوتے ہوئے چّھت کی طرف بڑھ گئے 


میں نے آسمان کی طرف نظر دوڑائی- سیاہ، گہرا، خاموش


چاند کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا 


شاید دیر کر دی تھی میں نے سلطان کو ساتھ لانے کے چکر میں. 

وہ خفیف سا چاند بادلوں میں اوجھل ہو چکا تھا. 


میں چار صلواتیں سنانے کے لیے سلطان کی طرف مڑی ہی تھی کہ اس نے اچانک کہا

”وہ دیکھو وہ رہا چاند“


میری آنکھیں فوراََ آسمان کی طرف گئیں

مگر وہاں کچھ نہ تھا


میں نے حیرانی سے پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا 

وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا

بلا توقف، یک ٹک ۔۔۔۔ جیسے میرے چہرے میں کچھ کھو بیٹھا ہو


وہ مجھے چاند کہ رہا تھا یا شاید اس نے واقعی چاند دیکھا تھا کبھی کبھی تو اس کی کتابی باتوں پر یقین سا آنے لگتا تھا میں خود کو اس کی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی 

شاید وہاں کچھ اور ہی تھا جو آئینے میں کبھی نظر نہ آیا


میں سوالیہ نظریں لیے اس سے مخاطب تھی کے اچانک میرے کانوں میں ایک آواز گونجی جیسے کوئی میرا نام پکارتا اوپر چھت کی طرف آ رہا ہو 


”عکس ، عکس ، کیا تم پر سے اوپر ہو؟؟؟“


میں اس آواز کو نظر انداز کیے دوبارہ سلطان کی طرف متوجہ ہوئی


”بتاؤ نا کہاں ہے چاند ؟؟“ 

مگر وہ کچھ نہ بولا

بس خاموش، ساون کی طرح ساکت 

جیسے الفاظ اُسکا ساتھ نہ دے رہے ہوں یا پھر وہ وہاں موجود ہی نا ہو 


”کس سے باتیں کر رہی ہو عکس؟“ وہ مہر تھی.


”سلطان سے“ میں نے بے اختیار جواب دیا 


”عکس پھر سے؟؟؟ تم یقیناَ پاگل ہو گئی ہو.“ وہ یہ کہتی واپس پلٹ گئی


”آج تو میں اپنے سب سوالوں کے جواب لے کر ہی رہوں گی تم سے“  یہ سوچتے ہوئے میں سلطان کی جانب مڑی مگر وہاں کوئی نہیں تھا کوئی بھی نہیں 


چھت خالی تھی 

آسمان خالی تھا

میرا دل۔۔۔۔ شاید وہ بھی خالی 


میں وہیں بیٹھ گئی 


 سر پر ہاتھ رکھے زمین پر نظریں جمائے. 

ڈھیروں سوال آوازیں


میرے دماغ میں گونجنے لگے


 کیا تم واقعی کہیں نہیں ہو؟؟؟ تم ہو؟؟؟ میں تمہیں دیکھ سکتی ہوں؟؟ سن سکتی ہوں؟؟؟ کیا میں واقعی پاگل ہو گئی ہوں؟؟

Comments