یونہی نہیں اُسکی آنکھ برس سی گئی ہے

 یونہی نہیں اُسکی آنکھ برس سی گئی ہے

لباسِ توبہ پہ لگ کچھ دنس سی گئی ہے


وہ سوالوں سوالوں  کی تھی جوگتھی سلجھ کر

جوابوں کے دلدل میں دھنس سی گئی ہے


اور کام تھے یا کئی اور تھے، میں جانتا نہیں

یا میری قسمت ہی اسے ڈس سی گئی ہے


میرے چہرے سے لالی  ہی جاتی نہیں ہے

مجھے دیکھ کر جو آج وہ ہنس سی گئی ہے


شب بھر وہ سربسجدہ رہے بھی تو کیا فائدہ

جسکی دنیا گیسوئے یار میں پھنس سی گئی ہے


مینال فاطمہ

Comments