کاش ہم مختلف حالات میں ملے ہوتے


کبھی سوچا ہے کہ اگر ہم کسی اور وقت، کسی اور جگہ، یا کسی اور حال میں ملے ہوتے تو کیا ہوتا؟ شاید کہانی کچھ اور ہوتی، شاید انجام مختلف ہوتا۔


ہو سکتا ہے ہم بچپن کے کسی اسکول میں دوست ہوتے، جب زندگی اتنی آسان تھی کہ چند گھنٹے رو کر ماں سے ہر بات منوا لیا کرتے تھے ۔ یا شاید ہم کسی ایسی ارض کی کتابوں کی دکان میں ملتے جہاں چار لوگ نہ ہوتے، تمہاری پسند کی کتاب مجھے بھی پسند آ جاتی، اور باتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا اور چار لوگ کیا سوچیں گے یہ ہمیں نہ سوچنا پڑتاـ


کاش ہم کسی سفر میں ملے ہوتے، جہاں وقت تھم سا جاتا اور راستے کی ہر موڑ پر نئی کہانی بنتی جو صرف ہمیں سنائی دیتی۔ یا پھر شاید کسی بارش میں دنیا کے جھمیلوں سے بےپرواہ، زندگی کے خواب بانٹ رہے ہوتے۔


کاش حالات وہ نہ ہوتے جو ہمیں دور لے گئے، کاش وقت وہ نہ ہوتا جس نے فاصلے بڑھا دیے۔ شاید ہم ساتھ چل رہے ہوتے، ایک دوسرے کے ہم راز بن کر۔


لیکن یہ "کاش" بھی عجیب سی چیز ہے نا؟ جو کبھی حقیقت بن نہیں پاتی، بس دل میں ایک خلش چھوڑ جاتی ہے۔ مگر پھر بھی، کبھی کبھی دل کہتا ہے...

کاش ہم مختلف حالات میں ملے ہوتے!

Comments