پھر بھی میں ہی قصوروار کیوں؟
میں نے تو دل میں بھلائی رکھی، ہر قدم پر ان کے لیے اچھا سوچا۔
جب وہ مشکل میں تھے، تو میں نے سہارا دیا۔
جب ان کی ہنسی کھو گئی، تو میں نے اپنے خواب قربان کر کے ان کے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوشش کی۔
جب وہ گرے، تو میں نے اپنے ہاتھ آگے بڑھائے کہ انہیں سہارا دے سکوں۔
لیکن انجام کیا ہوا؟
الزام میرے حصے میں آیا۔
میری نیت پر شک کیا گیا، میرے خلوص کو بدگمانی کی نظر سے دیکھا گیا۔
میں نے ان کے دل جوڑنے چاہے، مگر لوگوں نے یہی سمجھا کہ شاید میں نے ہی توڑنے کی سازش کی۔
میں نے ان کے لیے اچھے فیصلے کرنے چاہے، مگر وہی فیصلے میرے خلاف گواہی بن گئے۔
کیوں؟
کیا بھلا سوچنا گناہ ہے؟
کیا کسی کا درد محسوس کرنا اور اس کے لیے کچھ کرنا جرم ہے؟
یا پھر یہ دنیا ہمیشہ اسی شخص کو قصوروار ٹھہراتی ہے جو خاموشی سے سب سہہ لے؟
شاید مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میں غلط تھی۔
مسئلہ یہ تھا کہ لوگ اپنی غلطیوں کو ماننے کے بجائے کسی اور کو الزام دینا آسان سمجھتے ہیں۔
میری نیت بھلی تھی، لیکن انہوں نے اپنی آنکھوں میں جو پردے ڈال رکھے تھے، ان کے پار میری سچائی نظر ہی نہ آئی۔
پھر بھی، میں خود سے سوال کرتی ہوں:
کیا میں نے کچھ غلط کیا؟
کیا کسی کے لیے اچھا سوچنا اور اچھا کرنا واقعی میرا قصور تھا؟
شاید نہیں۔
شاید یہ دنیا کی روایت ہے کہ بھلا سوچنے والے کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔
مگر دل کہتا ہے کہ یہ بھلا سوچنا نہیں چھوڑوں گی، کیونکہ یہ میرا اصول ہے، میری پہچان ہے۔
پھر بھی، یہ سوال ہر بار رہ جاتا ہے، جیسے ایک پرانی گونج جو خاموش نہیں ہوتی:
*پھر بھی میں ہی قصوروار کیوں؟*
Comments
Post a Comment