کیسی ہے وہ؟

  وہ جو پوچھتے ہیں نا

کیسی ہے وہ؟
اُنھیں بتانا تم
بالکل اپنے لفظوں جیسی ہے
کبھی شوخ بلا کی لگتی ہے
تب نئی اُمنگوں جیسی ہے
سب سے الگ وہ سب سے جدا
رنگوں میں سیاہ رنگ جیسی ہے
جو بکھر کر فضا خوشگوار کر دے
وہ اس نغمہ چنگ جیسی ہے
کبھی مبھم سی کبھی اُلجھی ہوئی
وہ پرانی یادوں جیسی ہے
زمانے سے جو ٹکڑا جائیں
اُن پُختہ ارادوں جیسی ہے
بے پہرا اور بے ساختہ بھی
وہ موجوں کی روانی جیسی ہے
کبھی خاموش سی ٹھہری ہوئی
سمندر کے وہ پانی جیسی ہے
~ مینال فاطمہ

Comments