دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
رو رو کر آنسو سوکھ گۓ تھے
دن کچھ ایسے ہم پے آئے تھے
گھر والے بھی تو چھوٹ تھے
دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
وہ دن بھی تو ہم نے گزار لیے
مگر رات ہم کچھ گھبراۓ تھے
دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
آنکھوں سے موتی بھر بھر کے
پتھروں کے مینار بنائے تھے
دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
کچھ دوست ہمارے مل بیٹھے
پھر دھوکے ہم نے کھائے تھے
دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
وہ جو سایہ تھا نا میرا عکس ٗ
سنگ اس نے بس نبھائے تھے
دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
دن کچھ ایسے ہم پہ آئے تھے
از قلم
مینال فاطمہ عکسٗ
Comments
Post a Comment