گمنام
جو گمنام ہی اُن کو نے ان کو مشہور
میں مشہور کو گمنام لکھوں گی
اپنی زندگی کی کتاب میں
میں تمہیں بے نام لکھوں گی
یہ جو جھوٹی رفاقتیں دکھاتے ہیں نا
میں انہیں سب سے عام لکھوں گی
زندگی کے آخری صفحے پر
میں اپنے اچھے کام لکھوں گی
دنیا کے تمام غموں کا علاج
میں چائے کے دو جام لکھوں گی
بیچ دیں کیا تم نے اپنی وفائیں عکسٗ
اچھا بتاؤ، میں ان کے دام لکھوں گی
از قلم
مینال فاطمہ✨
Comments
Post a Comment