ستارہ

 سلطان کے ہونٹوں پر خاموشی تھی، مگر آنکھوں سے اُس کی بے چینی چِلا رہی تھیں. ہوا نے اُس کے بکھرے بالوں کو چُھوا، مگر وہ کسی اور ہی دنیا میں گم تھا. کمرے کے اندر سے آنے والی روشنی اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جہاں شِکستہ مسکان کے نیچے اُٹھتے سوالات دبے ہوئے تھے.


عکس مسلسل کتاب کے صفحے پلٹ رہی تھی مگر نظریں دروازے پر ہی جمی تھیں.

”تمہاری آنکھیں آج بہت کچھ کہہ رہی ہیں.... کیا بات ہے؟“  اُس کی آواز میں نرمی تھی، جیسے کوئی بزرگ کارآمد نصیحت کرنا چاہتا ہو.


وہ کرسی پر گرتے ہوئے بولا، جیسے جسم کے ساتھ روح بھی تھک کر بیٹھ گئی ہو. معلوم تھا اُسے کہ اب ایک لمبی چوڑی تقریر سننے کو ملے گی مگر شاید آج اسے ضرورت تھی اس تقریر کی.



”ہر بار یہی ہوتا ہے... محنت، کوشش، پھر وہی خالی ہاتھ! کیا میں ناکام ہونے کے لیے پیدا ہوا ہوں؟“ اُس نے اپنی مُٹھی میز پر رکھی، جیسے کسی غائب دشمن سے لڑ رہا ہو.


عکس نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جیسے ہوا کے جھونکوں میں کوئی جواب چُھپا ہو:  

”کبھی کبھی نتیجہ نہ ملنا... دراصل نتیجہ ہی ہوتا ہے. اللّٰه ہمیں دکھاتا ہے کہ اُس کی رضا کے بغیر محنت بھی ادھوری ہے. تم نے اپنا حصہ پورا کیا، اب اُس پر چھوڑ دو جو ظاہر و باطن سے واقف ہے.“  


”مگر....“ اس نے گہری سانس لی، ”جب تک میں وہ نہیں حاصل کر لیتا جو چاہتا ہوں، اس سے پہلے کیسے رُک جاؤں؟“  


وہ مڑی اور اُس کے قریب آ کر بیٹھ گئی.

”رُکنا نہیں، صبر کرنا ہے. جس درخت کو تم پانی دیتے ہو، وہ کل پھل دے گا، مگر اُس کا موسم الگ ہوگا. تمہاری محنت کا پھل بھی آئے گا، مگر اُس کی میٹھاس اُس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک وہ پک نہ جائے.“  


خاموشی نے کمرے کو گھیر لیا. سلطان کی نظر دیوار پر لٹکے گھڑیال پر ٹھہر گئی، جہاں وقت کے دانے گر رہے تھے. پھر اُس نے سر جھکا کر کہا:  

”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مجھے یہی راستہ اختیار کرنا چاہیے، اور کچھ کہتے ہیں کہ سرمد کی بات بھی ٹھیک ہے.“


عکس نے اُس کی بات کاٹتے ہوئے کہا:  

”لوگوں کی آوازیں ہمیشہ گونجتی ہیں. مگر تمہارا دل... یہ خاموشی سے وہ راستہ جانتا ہے جو تمہارا ہے. ڈرو نہیں....  مجھے یقین ہے تم جو فیصلہ بھی کرو گے، وہ تمہیں کسی بہتر مقام پر ہی لے کر جائے گا. اور اگر راستہ بھٹک جاؤ، تو اللّٰه تمہیں واپس اُسی جگہ لے آئے گا جہاں تمہارا مقدر ٹھہرتا ہے.“  


سلطان نے آنکھیں بند کر لیں. اُس کے ذہن میں ایک پرانی یاد تیر گئی، بچپن میں درخت سے گرنے کے بعد ماں کا وہ جملہ: "گرنا بھی سیکھتا ہے جو اُڑنا چاہتا ہے."


اب اُس کی آواز میں پہلے سے ہلکی سی لرزش تھی:  

”اگر میں پھر گر گیا تو...؟“  



وہ اُٹھی اور دروازے تک جاتی ہوئی مڑ کر بولی:  

”تو اُٹھو گے ہمیشہ....“ دروازہ کھو لتے ہوئے اُس نے آخری جملہ کہا، ”کیونکہ اللّٰه جنہیں آزماتا ہے اُنہیں اُٹھنے کی ہمت بھی عطاکرتاہے.“  


کمرے کی خاموشی میں اب صرف گھڑیال کی ٹک ٹک باقی تھی. سلطان نے کھڑکی کی طرف دیکھا،باہر شام ڈھل رہی تھی، اور دور افق پر پہلا ستارہ ٹمٹما رہا تھا.

Comments