پرانا خط
یونیورسٹی تو آج بھی ویسی ہی تھی، کچھ نیا نہیں تھا. کیمپس بھی بالکل پہلے جیسا ہی تھا. وہی عمارتیں اور راستے جہاں ہر دن گھنٹوں بیتا کرتے تھے مگر آج وہ سب کچھ کسی اور زاویے سے دیکھ رہی تھی. وہ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی گاڑی ایک طرف پارک کر چکی تھی. وہ گاڑی میں بیٹھے ہی یہ چند منٹ کا راستہ کاٹ سکتی تھی مگر آج وہ ہر لمحے کو محسوس کرنا چاہتی تھی.
قدم آہستہ آہستہ خودبخود چلنے لگے، جیسے یادوں کے دھاگے نے اسے کھینچ لیا ہو. وہ ہاسٹل جہاں اس کا کچھ خاص وقت نہ گزرا تھا اور یونیورسٹی میں رہتے ہوئے بھی وہ زیادہ وہاں نہ جاتی تھی مگر آج دل کے بہت ہی قریب محسوس ہو رہے تھے. وہ لائبریری کی سیڑھیاں، اور اپنے ڈیپارٹمنٹ کا لان جہاں بیٹھ کر کئی شامیں گزاری تھیں، جہاں باتوں میں کبھی وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوتا تھا سب آج پھر اُسکی آنکھوں کے سامنے تھے.
وہ خاموشی سے ایک بینچ پر جا بیٹھی، جہاں وہ اکثر اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالتی تھی مگر یہ راز شاید ہی کوئی جانتا تھا. بیگ سے ایک پرانا خط نکالا جو اسی جگہ پر کسی نے اسے تھما دیا تھا اس نے سال بھرسنبھال کر رکھا تھا خط کو مگر کبھی کھولنے کی ہمت نہیں ہوئی. خط دینے والے کو بھی معلوم تھا شاید اس کی ہینڈ رٹن نوٹس اور لیٹرز سے اوبسیشن کے بارے میں.
"اگر میں کہوں کچھ سوال اب بھی ویسے ہی تمہارے منتظر ہیں، تو کیا آج تمہارے پاس کوئی جواب ہوگا؟"
الفاظ نے جیسے وقت کا پہیہ روک دیا تھا۔ لمحے تھم گئے تھے اور وہ ماضی کے اُسی موڑ پر جا پہنچی جہاں یہ خط لیا گیا تھا. وہ اُن سوالوں کا جواب آج تک تلاش کر رہی تھی مگر لا حاصل. وہ مزید نہیں پڑھ پائی یا شاید پڑھنا ہی نہیں چاہتی تھی.
ہوا کے ہلکے جھونکے نے اس کے ہاتھ میں موجود کاغذ کے اس ٹکڑے کو ہلایا اور اسے ماضی کے دریچوں سے واپس حال میں لانے میں کامیاب رہا. اس کی نظر سامنے لان کی طرف اُٹھی جہاں طلبہ کے گروپس بیٹھے ہنس رہے تھے، کوئی پروجیکٹ پر بحث کر رہا تھا تو کوئی مستقبل کی باتیں کر رہا تھا. وہ سبھی وہی لمحے جی رہے تھے، جو وہ سال پہلے جیا کرتی تھی.
وہ زیادہ دیر یہاں نہیں رکنا چاہتی تھی. فوراََ خط تہہ کر کے بیگ میں رکھتے ہوئے اس نے ایک نظر ہنستے ہوئے اُن بچوں پر ڈالی اور واپسی کےلیے قدم بڑھا دیئے. وہ جانتی تھی کہ وقت کبھی واپس نہیں آتا، مگر کچھ جگہیں ہمیشہ دل کے اندر زندہ رہتی ہیں. یہاں تو سب کچھ ویسا ہی تھا، مگر وہ خود بدل چکی تھی.
Comments
Post a Comment