”وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ“


ایک اندھے کنویں کے پاس کھڑی وہ مسلسل اندر جھانک رہی تھی شاید کچھ تلاش کر رہی تھی یا خودکشی کا ارادہ رکھتی تھی بہت دير متجسس سی وہاں دیکھتی بہت دور جا کر کھڑی ہو گئی



گھپ جنگل اور اندھیرے میں کوئی قدموں کی آہٹ  بھانپ کر بھاگنے لگی اور اسی لمحہ سامنے موجود اُس کنویں میں کود گئی ایک زوردار چیخ اور پانی کی وہ آواز پورے جنگل میں گونج اٹھی۔ وہی آواز شاید اُن قدموں کو بھی اس کنویں تک لے آئے

 

کنویں میں پانی کچھ زیادہ نہیں تھا مگر وہ تیرنا نہیں جانتی تھی آہستہ آہستہ اُسے اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہو رہیں تھیں اور وہ شاید اپنی جان بچانے کی کوئی کوشش بھی نہیں کر رہی تھی مگر کنویں کے باہر موجود وہ وجود اسے بچانا چاہتا تھا ہر حال میں بچانا چاہتا تھا 


اس شخص نے ناجانے ایسا کیا کلمہ پڑھا کہ چاروں اور ایک روشنی پھیل گئی اور وہ مدھم  روشنی اُس کنویں کے نچلے حصّے تک  بڑھنے لگی اور شاید اس لڑکی کے جینے کی خواہش بھی کیونکہ وہ خود آ پہنچی تھی اُن خوفناک بلاؤں کے بیچ جن سے وہ بچتی پھر رہی تھی اُسے جینا تھا وہ ایسی ڈروانی موت کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی 


چاروں اطراف نظر دوڑائی مگر کوئی ایسی چیز نہ دکھائی دی جس سے وہ اپنی جان بچا سکتی مگر اچانک ایک رسی اُمید کی کرن کی طرح نیچے ڈھلتکی محسوس ہوئی اور وہ لمحہ بھر میں اسکا سہارا لیتی کنویں سے باہر آنے لگی اُسے لگا تھا کے کنویں کے باہر اسکا محسن اسکا منتظر ہے 


اس وجود سے پھوٹتی وہ روشنی مسلسل بڑھتی جا رہی تھی وہ اسکو دیکھ نہ سکی کنویں کے دہانے تک پہنچی ہی تھی کہ ہر طرف پھر سے تاریکی چھا گئی وہاں نہ تو کوئی انسان موجود تھا  نہ روشنی اُسے اپنے زندہ بچ جانے کی خوشی ضرور تھی مگر اپنے محسن سے نہ مل پانے کا تاعمر  رہنے والا دکھ بھی


~مینال فاطمہ

Comments