از قلم
کبھی دیکھی ہے تم نے ایسی لڑکی
کالے رنگ سے عشق رکھنے والیاُداس درختوں سے باتیں کرنے والی
اجالوں سے ڈرنے والی
تاریکیوں میں خوش رہنے والی
بارش میں کھو جانے والی
نازک ایسی کے پرندوں کے
پھڑپھڑانے سے ڈر جائے
کبھی اتنی بہادر کہ دُنیا
اکیلے گھومنے کے خواب سجا لے
دُنیا کے سامنے کلکھلاتی ہنستی مسکراتی
اور اکیلے میں خود سے ہی لڑنے والی
دل کی آواز کو الفاظ میں ڈھال کر
اسے ڈائری کی زینت بنانے والی
ایک کھوکھلے درخت کی مانند
باہر سے مکمل نظر آنے والی
مگر اندر سے بلکل خالی
نہیں دیکھی؟
تو مجھ سے ملاقات ضرور کرنا
از قلم
مینال فاطمہ
Comments
Post a Comment